پیشہ ورانہ اخلاقیات کے موضوع پر رسول اللہ صلی الم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں یہ تربیتی راہ نما ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جس کی جڑیں اسلام کے آفاقی اصولوں میں پیوست ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی اساس لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے ابدی پیغام پر قائم ہے۔ اس ریاست کے وجود کا مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا جو انصاف، مساوات، حقوق کے تحفظ ، رواداری اور اعلیٰ انسانی اقدار پر مبنی ہو۔ ان اقدار کی بنیاد رسول اللہ صلی علیم کی تعلیمات اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں میں بہ خوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ پیشہ ورانہ ماحول میں انہی اصولوں کی روشنی میں انفرادی و اجتماعی کردار کو استوار کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی ا ہم نے معاشرتی زندگی کے ہر پہلو کو حسن اخلاق اور انتظامی شفافیت سے سنوارا۔ آپ صلی الیم نے دیانت، عدل، شفقت، بردباری، رعایت، معانی، نرمی، آداب اختلاف اور خلوص کو سماجی نظام کا جزو لازم بنایا۔ جب آپ صلی علیم نے مدینہ میں ریاست کی بنیاد رکھی تو مواخات، میثاق مدینہ اور فلاحی اصولوں کی روشنی میں ایسا معاشرہ قائم فرمایا جو قیامت تک کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔ یہی اصول ادارہ جاتی نظم ، خدمت خلق اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بھی راہ نما ہیں۔








